ماہ رمضان ؛ فضائل و مسائل

*=== ماہ رمضان ؛ فضائل و مسائل ===*
           (✍ : مفتی سفیان بلند)

*روزہ کی نیت کب کرے ؟*
حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص روزے کی نیت فجر سے پہلے نہ کرے تو اس کا روزہ کامل نہیں ہوتا۔ (ترمذی، ابوداؤد) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ راوی نے اس روایت کو امام زہری سےنقل کیا ہے اور حضرت حفصہ ؓ پر موقوف کیا ہے یعنی اس حدیث کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا قول کہا ہے۔
فائدہ : اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر روزہ کی نیت رات ہی سے نہ کی جائے تو روزہ درست نہیں ہوتا خواہ روزہ فرض ہو یا واجب ہو یا نفل، لیکن اس بارے میں کچھ تفصیل ہے :
اگر رمضان کا روزہ ہو یا نفل روزہ ہو یا نذر معین کا روزہ ہو تو نصف النہار شرعی یعنی زوالِ آفتاب سے پہلے پہلے نیت کرلینی جائز ہے، لیکن اگر قضاء روزہ ہو یا کفارہ کا روزہ ہو یا نذرمطلق کا روزہ ہو تو اس کے لئے رات ہی سے نیت کرنی شرط ہے، کیونکہ پہلی صورت میں رمضان کے روزہ اور نذر معین کی تعیین تو موجود ہے،جبکہ دوسری صورت میں تعیین کی ضرورت ہے۔

*نصف النہار کیا ہے ؟*
’’نصف النہار‘‘ عربی لفظ ہے،’’نصف‘‘ کا معنی ہے آدھا اور ’’النہار‘‘ کا معنی ہے دن، گویا نصف النہار کا معنی ہوا دن کا آدھا یا نصف وقت، نصف النہار کو عام طور پر ’’زوال‘‘ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، البتہ نصف النہار کی نصف النہار کی دو قسمیں ہیں جن سے ہمارے شرعی احکام متعلق ہیں :
1- نصف النہار شرعی
2- نصف النہار عرفی (اسی کو عام طور پر ’’زوال‘‘ بھی کہا جاتا ہے)
رمضان کے روزے،نفل روزے اور نذرِ معین کے روزے کی نیت نصف النہار شرعی سے قبل کرنا ضروری ہے۔
صبح صادق اور طلوع آفتاب کے درمیان جتنا وقت ہوتا ہے، نصف النہار شرعی اور نصف النہارعرفی (وقتِ زوال) کے درمیان اس کا نصف ہوتا ہے، مثلا صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ڈیڑھ گھنٹہ ہو تو نصف النہار عرفی (وقت زوال) سے پونہ گھنٹہ پہلے نصف النہار شرعی ہوگا، اس کی مقدار ہر موسم میں اور ہر مقام میں مختلف ہوتی ہے، اس لئے کوئی مقدار گھنٹوں سے متعین نہیں کی جاسکتی،ضابطہ مذکورہ کے مطابق عمل کیا جائے۔ (احسن الفتاوی 446/4)

*لغو کلام اور بے ہودہ گفتگو سے پرہیز :*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جوشخص (روزے کی حالت میں) لغو و باطل کلام اور بے ہودہ افعال نہ چھوڑے گا تو اللہ کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوگی کہ اس نے اپنا کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔(بخاری)
فائدہ: لغو و باطل کلام سے مراد وہ باتیں ہیں جن کو اپنی زبان سے نکالنے میں گناہ لازم آتا ہے جیسے کفریات بکنا، جھوٹی گواہی دینا، افتراء پردازی، غیبت کرنا، بہتان تراشی خواہ زنا کا بہتان ہو یا کسی برائی کا اور لعنت کرنا یا اسی قسم کی وہ باتیں جن سے بچنا ضروری ہے۔ لہٰذا جس روزہ دار نے نہ تو لغو و باطل کلام سے اپنی زبان کو بچا لیا اور نہ برے افعال کی غلاظت سے اپنے دامن کی حفاظت کی تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ اس نے اپنا کھانا پینا اور دوسری خواہشات چھوڑ رکھی ہیں۔
عارف باللہ مرشدی حضرت واصف منظور صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ جب روزہ رکھوا کر حلال کام کرنے بھی ممنوع ہوگئے تو حرام کام کیسے جائز ہوسکتے ہیں،وہ تو بغیر روزہ کے بھی جائز نہیں،یہ زبان بہت سوں کو اوندھے منہ جہنم میں گرانے والی ہے، روزہ میں اسی بات کی مشق ہے کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھے،حضور اکرم ﷺ نے اس شخص کے لئے ضمانت لی ہے جو دوجبڑوں کے درمیان کی چیز یعنی زبان کی حفاظت کرے۔

مشائخ  لکھتے ہیں کہ روزہ کی تین قسمیں ہیں:
1- عوام کا روزہ ہے جس میں کھانے پینے اور جماع سے اپنے کو باز رکھا جاتا ہے۔
2-  خواص کا روزہ ہے کہ جس میں تمام اعضاء اور حسیات کو حرام و مکروہ خواہشات و لذات سے بچایا جاتا ہے بلکہ ایسی مباح چیزوں سے بھی اجتناب ہوتا ہے جو کسر نفسی کے منافی ہیں۔
3- اخص الخواص کا روزہ ہے کہ جس میں سوائے حق کے ہر چیز سے بالکلیہ اجتناب ہوتا ہے بلکہ غیر حق کی طرف التفات بھی نہیں ہوتا۔

*ناشر: دارالریان کراتشی*

Comments