رمضان المبارک کے "استقبال" میں کچھ عزائم کرتے ہیں !!

آئیے دوستو! رمضان المبارک کے "استقبال" میں کچھ عزائم کرتے ہیں !!🌹


- - - - - - - - - - - - - - - - - - -
- - - - - - - - - - - - - - - - - - -

السلام عليكم و رحمة الله و بركاته .....

اب سے چند ہی دنوں بعد آپ کے ، میرے بلکہ ہر ہر فرد مسلم کے گھر ایک با برکت اور مقدس مہمان کی آمد ہے !!

جی ہاں !! آپ نے بالکل صحیح پڑھا ہے کہ " ایک مہمان کی آمد" ہے  !!

مہمان ایسا کہ جسکی آمد کی خبر اور خوشخبری رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بہی اپنے پیارے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیا کرتے تھے چنانچہ فرماتے تھے کہ " قد جاءكم شهرُ رمضانَ ، شهرٌ مباركٌ ، افترضَ اللهُ عليكم صيامَه ، تُفْتَحُ فيه أبوابُ الجنةِ ، و تُغْلَقُ فيه أبوابُ الجحيم ، و تُغَلُّ فيه الشياطينُ ، فيه ليلةٌ خيرٌ من ألف شهر ، مَنْ حُرِمَ خيرَها فقَدْ حُرِمَ "
پڑھا نے آپ نے !!
کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو رمضان المبارک کی آمد کی کیسے خوش خبری اور بشارت دیا کرتے تھے !!
اور ہمارے لئے إرشاد باری ہے" لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة "
کہ ہم مسلمانوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے !!

اور آپ نے اسی حدیث پاک میں یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ یہ مہمان کتنی بڑی فضیلتوں کا حامل ہے !!

یہ بہی یاد رہے کہ یہ مہمان ہم سے کچھ لینے نہیں بلکہ ہمیں بہت کچھ دینے اور ہمیں ہمارے خالق حقیقی سے قربت دلانے اور روحانی قرب دلانے آتا ہے !!
" قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَ بِرَحْمَتِه ، فَبِذَالك فَلْيَفْرَحُوا ، هو خيرٌ مِمَّا يجمعون" !!!

تو آئیے دوستو !!
ہم اس فضل رب اور کرم کریم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی روز مرہ کی زندگی میں کچھ تغير اور تبدیلی کا عزم و ارادہ کرتے ہیں !!

اور فرمان باری تعالٰی " وَ ذَكِّر فَإِنَّ الذِّكرَي تَنفَع المُؤْمِنِينَ"
کی روشنی میں کچھ باتیں بطور مذاکرہ کرلیتے ہیں ؛

   - - - - - - - - - - - - - - - - - -
   - - - - - - - - - - - - - - - - - -

(١) پہلا عزم کہ 🌹ہم سے پورے ماہ رمضان " تکبیر تحریمه " یعنی " التكبيرة الأولى" فوت نہ ہونے پائے 🌹 !!
کیوں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے " من صلى لله أربعين يوما في جماعة يدرك الكبيرة الأولى كتبت له برائتان ؛ براءة من النار و براءة من النفاق"

ملاحظة : تکبیر اولی پانے کے بارے میں چند اقوال ہیں جن میں سے پہلا قول جمہور فقہاء کا ہے وہ یہ کہ
(١) کہ آدمی يعني "مُصَلِّي" تکبیر اولی پانے والا جب ہی کہلائے گا جب وہ امام کے ساتھ تکبیر اولی کہنے کے وقت موجود ہو !!

اور دوسرا قول جو امام أعظم أبو حنیفه کا ہے وہ یہ کہ
(٢) اگر آدمی یعنی "مُصَلِّي"امام کے ساتھ پہلی رکعت کے رکوع میں بہی شریک ہوجائے تو بہی تکبیر اولی پانے والا کہلائے گا !!
اور بہی أقوال ہیں مگر سب سے آخری قول امام أعظم ابو حنيفة کا ہے !!

تو کیوں نہ ہم اس ماہ مبارک میں تکبیر اولی کی پابندی کرکے اور مزید اسکے ساتھ دس دن آگے یا پیچھے ملاکر یہ دونوں "براءت نامے" جہنم اور نفاق (جن میں سے ایک دل کی خطرناک بیماری ہے اور دوسرا خطرناک ٹھکانہ ہے) سے چہٹکارے کے پروانے رب العزت سے حاصل کرلیں !!

" و في ذلك فليتنافس المتنافسون !!
اور اسی میں سبقت کرنے والوں کو سبقت حاصل کرنی چاہیے !!

(٢) دوسرا عزم ؛ کہ کم از کم اس ماہ مبارک کی 🌹ساری نمازیں صف اول 🌹میں پڑہنے کا اہتمام کریں !!
کیوں کہ صف اول کی فضیلت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے " لو يعلم الناسُ ما في النداء و الصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لا استهموا "
کہ اگر لوگ اذان اور صف أول میں نماز پڑھنے کی فضیلت کو جان جائیں اور پہر اذان اور صف اول میں نماز پڑھنے کا موقع نہ پائیں تو یہ موقع بذریعہ قرعہ اندازی بہی حاصل کرکے رہیں  !!

(٣) تیسرا عزم ؛ کہ 🌹تہجد کا اہتمام ضرور کریں 🌹 !!  چاہے روزانہ دو ہی رکعت کیوں نہ ہوں !!
کیوں کہ تہجد کے وقت اللہ پاک ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور یہ نداء لگاتے ہیں کہ
(١) من يدعوني ..  فأستجيبَ له ؟؟
(٢) من يسألني .. فأُعطيَه ؟؟
(٣) من يستغفرني .. فاغفرَ له  ؟؟"
اور یہ سلسلہ تا فجر چلتا رہتا ہے جیسا کہ حدیث پاک میں وضاحت ہے" ولا يزال ذلك حَتَّى يضيئَ الفجرُ "
نیز ان اوقات میں ذکر کرنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خصوصی ترغیب دلائی ہے فرمایا " أقرب ما يكون الرب من العبد في جوف الليل الآخر ، فإن استطعت أن تكون ممن يذكر الله الله تعالى في تلك الساعة ، فَكُنْ !!"
تو یہ وقت اللہ تعالٰی کا اپنے بندوں سے قربت کا ہے  !!
اور بڑے ہی باسعادت اور اونچے نصیبے والے ہیں وہ لوگ جنہیں اس وقت ذکر وغیرہ کی توفیق ہوجاتی ہے !!
نیز فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ" أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد "
اس طرح سے بندہ بہی کم از کم دو رکعت پڑھ کر اپنے رب سے قریب ہوسکتا ہے !!
اور بحالت سجدہ "دعاء" کی فضیلت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے " و أما السجود ؛ فاجتهدوا في الدعاء ، فقمن أن يستجاب لكم !! كتاب الأذكار ١١٩

ملاحظة : ان ساری احادیث سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ" رات کی آخری ساعات " اور گہڑیاں کتنے مبارک اورقیمتی لمحات ہوتے ہیں  !!

(٤) 🌹کسی بھی مسلمان بھائی کی دل آزاری سے مکمل پرہیز کریں🌹 !!

ملاحظة هامة :
پورے سال ان چیزوں کا اہتمام کرنا یہ بہت اونچا مقام ہے جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے !!
مگر ایسے خاص اور فضیلت والے اوقات میں ضرور ہرکسی کو ہمت کرنی چاہئے !!

جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضرت حنظلة " غسیل الملائكة" کو اپنے اوپر نفاق کا شک ہوگیا گہر سے نکلے تو راستے میں أبوبكر الصديق" صاحب الغار" سے ملاقات ہوئی تو انہیں بھی یہی شک ہو چلا !!
قصہ مختصر یہ کہ دونوں نے اپنے شک کا اظہار خدمت اقدس میں کیا تو جواب ملا کہ " والذي نفسي بيده إن لو تدومون على ما تكونون عندي ، و في الذكر لصافحتكم الملائكة على فرشكم و في طرقكم ، و لكن يا حنظلة ساعةً و ساعةً !!
کہ اگر تمہاری یہی کیفیت اور حالت رہنے لگے جو میرے پاس موجود ہونے اور ذکر میں ہونے کے وقت رہتی ہے ، تو فرشتے تمہیں تمہارے بستروں اور تمہارے راستوں میں سلام کرنے لگیں !!
لیکن اے حنظلة !! وقت وقت میں فرق ہوتا ہے !!

اس سے پتہ چلا کہ انسان ہر وقت تو اتنی بزرگی کا مکلف نہیں ہے مگر دینی مجالس اور دینی بیانات اور خاص اوقات میں اسکا احساس ہونا تو کم از کم ضروری و لابدی ہے !!

"إنْ كانَ الصَّوابُ فمِنَ اللَّهِ ، و إنْ كانَ الخطأُ فمِنِّي و مِنَ الشَّيْطانِ" !!

اللہ پاک مجھے اور آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے !!

آمین ثم آمین !!

أخوكم في الله

Comments

Popular posts from this blog

ماہ رمضان ؛ فضائل و مسائل