روزے میں پیاس برداشت کرنے کے لیے کیا ضروری ہے؟
*روزے میں پیاس برداشت کرنے کے لیے الائچی نہیں، تقوی و کثرت استغفار مطلوب ہے۔*
آج کل جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کچھ دنوں میں رمضان کی آمد ہے تو جہاں رمضان کے حوالے سے بہت پوسٹ دیکھنے کا موقع مل رہا ہے وہی بہت سارے ٹوٹکے دیکھنے کو بھی مل رہے ہیکہ سحری میں یہ کھا لیں یا وہ پی لیں گے تو پیاس نہیں لگے گی،
وغیرہ وغیرہ
معزز بہنوں اور بھائیوں یاد رکھیں!!!
روزے کا تعلق کھانے پینے سے نہیں ہے بلکہ اللہ رب العزت سے ہے،
*اللہ رب العزت خود فرماتا ہے روزہ میرے لیے ہے اس کا اجر میں دوں گا،*
1 کا 700 گنا تک دونگا،
وہ اپنے بندے کو خوش کردےگا،
*بندہ روزہ کا اجر دیکھ کر تمنا کرےگا کہ کاش ساری زندگی روزہ رکھ کر گزار دی ہوتی،*
اللہ صرف اس بات سے ہی بہت خوش ہوتا ہے کہ اس حکم پر کیسے بندہ مومن حلال چیزوں سے بھی اپنے آپ کو دور کر لیتا ہے، بھوک اور پیاس برداشت کرکے اس کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے، قدرت ہوتے ہوۓ بھی ساری چیزیں سامنے ہوتے ہوۓ بھی وہ انسے دور ہو جاتا ہے،
اور ایک بندہ مومن کوئی بھی عمل جو کرتا ہے اللہ کی محبت میں کرتا ہے اسکی رضا کیلئے کرتا ہے، اور جب اس کی نیت خالص اللہ کے لیے ہوتی ہے تو راستے میں آنے والی مشکلات مشکلات نہیں رہتیں اور جیسا روزے کے لیے آتا ہے کہ،
*اللہ رب العزت نے خود کہا ھے کہ روزہ دار کا اجر میں دونگا، جتنا چاہوں گا اتنا دونگا،اپنے بندے کو خوش کر دونگا*
تو مشکل اور پریشانی کیسی۔۔۔؟؟
بندہ مومن کی ساری توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ کیسے میرا رب مجھ سے راضی ہوجائے،
میں ایسے کونسے کام اور اعمال کروں جو اسکو راضی کر دے اور کن کاموں اور باتوں سے اپنے آپ کو روک لوں، انسے توبہ کر لوں جس سے وہ خوش ہو،
ایسے ہی لوگ ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!
"جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام *ریان* ہے_
*قیامت کے دن پکارا جائے گا۔ روزے رکھنے والے کہاں ہیں*،
چنانچہ جو شخص روزے رکھنے والوں میں سے ہوگا صرف وہی اس میں سے داخل ہو جائے گا اور جو اس میں داخل ہو گیا اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی_" (سنن ابن ماجہ)
روزہ بنیادی طور سے روز محشر کی تیاری ہے،
جس طرہ روز محشر میں وہی انسان سب سے کم حیران و پریشان و بھوکا اور پیاسا ہوگا جسکے گناہوں کا بوجھ کم سے کم ہو گا،
اسی طرہ *روزہ دار کو گناہوں کا بوجھ کم کرنے کی فکر کرنی چاہئے کثرت استغفار سے،* *قرآن کی تلاوت سے، زکر و اذکار سے،*
نہ کہ الائچی کے دانے اور دودھ دہی وغیرہ سے،
*آپ اگر روزہ رکھ کر بھی اپنے روز مرہ کے گناہوں والے اعمال سے نہی رکتے، اپنی پر منٹ ایک گالی اور دل آزاری کے جملے ادا کرنے والی زبان کو قابو میں نہیں رکھتے تو جان لیجۓ کے آپ پر روزہ بہت بھاری گزرنے والا ہے،*
اس لیے ان سب فکروں کو چھوڑیں کہ کیا کھائیں کہ پیاس نہ لگے بلکہ اصل مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں اور دعا کریں کہ اللہ آنے والا رمضان ہمارے تقوہ میں مزید اضافے کا باعث ہو، ہم گناہوں سے پاک و صاف ہوں، اور اس حال میں گزرے کہ اللہ آپ ہم سے راضی ہوں اور ہمیں بخش دیں۔۔۔
آمین یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment