روزہ افطار میں جلدی کرنا
*روزہ افطار میں جلدی کرنا*
حضرت سہل ابن سعد رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا " میری امت اُس وقت تک خیر پر رہیگی جب تک افطار میں جلدی کرتی رہیگی" ( *بخاری، مسلم*)
*افطار میں جلدی کرنے کا مطلب*
افطار میں جلدی کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہی افطار کر لے، وقت سے پہلے افطار کر لینا بہت محرومی کی بات ہے اور کل قیامت کے دن اُن لوگوں کو جو *تعجیل* افطار کے نام پر وقت سے پہلے ہی افطار کر لیتے ہیں سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا،
*حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ " میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو اُلٹے لٹکائے گئے تھے، اُن کے جبڑے پھٹے ہوئے تھے، اور اُن سے خون ( رس) بہہ رہا تھا*،
*میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں*؟ *مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے ہی روزہ افطار کر لیا کرتے تھے*
( صحیح ابن حبان، صحیح ابن خزیمہ، اس حدیث کو البانی نے صحیح کہا ہے)
واضح رہے کہ جن کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ افطار میں جلدی کرنا چاہئے وہاں جلدی کا معنی اور مطلب بھی لکھا ہوا ہے،
چنانچہ کتابوں میں صاف لکھا ہوا ہے
*یسن تعجیل الإفطار إذا تحقق غروب الشمس....*
*یعنی افطار جلدی کرنا سنت ہے اُس وقت جبکہ سورج کے غروب ہونے کا یقین ہو جائے*
اس لئے دنیا بھر کے مسلمان افطار کا وقت دیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے تاکہ روزہ کا ثواب پورا مل سکے اور روزہ ضائع ہونے سے بچ جائے،
*بعض لوگ کہتے ہیں کہ افطار میں تاخیر کرنا یہودیوں کا عمل ہے*
تو یاد رکھیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وقت سے پہلے ہی افطار کر لیں،
علامہ شوکانی رح لکھتے ہیں کہ یہودی اتنی تاخیر کرتے تھے کہ آسمان پر تارے جگمگانے لگ جاتے تھے،
خلاصہ یہ کہ اگر سحری اور افطاری میں کوئی ٢ یا ٣ منٹ احتیاط کر لے تو اس میں یہودیوں کی مشابہت نہیں یو جائے گی *بلکہ اس طرح احتیاط کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے*
*خلفاء راشدین میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رمضان المبارک میں پہلے مغرب کی نماز ادا کی پھر اُسکے بعد روزہ افطار کیا* ( مؤطا امام مالک)
ظاہر بات ہے کہ افطار میں جلدی کرنے کی حدیث اُن حضرات کے سامنے بھی ہوگی، اور یہودیوں کی تاخیر والی بات بھی ان کے سامنے ہوگی، پتہ چلا کہ احتیاطاً ٢ یا ٣ منٹ رک کر افطار کرنا تاکہ سورج کے غروب ہونے کا یقین پکا ہو جائے *یہی پسندیدہ عمل ہے* اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے،
Comments
Post a Comment