عبادت میں تجارت

🌷 *عبادت میں تجارت*🌷

(مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)
رمضان المبارک  میں عام طور پر فروٹ کا استعمال بڑھ جاتا ہے اور فروٹ کے تاجروں میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے، ان کا روزہ داروں کے ہاتھ فروٹ بیچنا اور اس پر مناسب منافع لینا جائز ہے؛ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ اس میں روزہ داروں کا استحصال کیا جاتا ہے، مثلا " ایک تربوز اگر 25 شعبان کو 30 روپئے کا ہو تو پہلی رمضان سے اسکی قیمت سو روپئے کر دی جاتی ہے اور عید ختم ہوتے ہی پچھلی قیمت بحال ہوجاتی ہے، یہی حال بقر عید کا ہے، جانوروں کے مسلمان تاجر عیدالاضحی سے کچھ پہلے سے قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیتے ہیں، قصاب حضرات قربانی کے دنوں میں دو گنا اور تین گنا پیسہ وصول کرتے ہیں، 12 ذی الحجہ کے بعد پھر قیمت اور اجرت معمول پر آجاتی ہے، *بعض حضرات نے تو اجر اور ثواب کے اس موسم کو تجارت اور انویسٹمنٹ کا سنہرا موقع بنا لیا ہے، دو ہفتہ کے لئے سرمایہ لگاتے ہیں اور کئی گنا نفع حاصل کرتے ہیں*
*حج کے معاملے میں مسلم ٹورس اور ٹریولس کا رویہ سب سے زیادہ خراب ہے، انہیں اس نیت سے کام کرنا چاہئے تھا کہ حاجیوں کو راحت پہنچائیں اور تھوڑا بہت نفع ان کو مل جائے؛ لیکن صورت حال یہ ہے کہ اولا"تو حاجیوں سے ایسے وعدے کئے جاتے ہیں، جو حرمین شریفین پہنچنے کے بعد دن کا خواب معلوم ہوتا ہے، جو سہولتیں نہیں پہنچا سکتے، ان کا اعلان کرتے ہیں، خود حجاج میں عبادت میں مشقت اٹھانے اور اللہ کا مہمان ہونے کے جذبہ کے بجائے ٹورس کے مہمان ہونے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، اور وہ سہولت پسندی کے جذبہ کے ساتھ پہنچتے ہیں، جب وہاں شکایتیں پیدا ہوتی ہیں تو لے جانے والوں کارویہ نہایت تیز اور بہت کڑوا ہوتا ہے، یہ سب کچھ اس لئے کیا جاتا ہے؛تاکہ سبز باغ دکھا کر عازمین سے زیادہ سے زیادہ پیسے وصول کئے جائیں*
افسوس بالائے افسوس یہ ہے کہ اب حج میں رشوت کا بھی سلسلہ شروع ہوگیا ہے، سعودی حکومت حج و عمرہ کے ویزے فروخت نہیں کرتی ہے؛ لیکن نہ معلوم کہاں سے اس میں کرپشن داخل ہوگیا ہے، لوگ رشوت دیکر حج کے ویزے خریدتے ہیں، جو قطعا" ناجائز ہے، *اسی طرح بعض ٹورس ان ویزوں کو فروخت کرتے ہیں، جو انھیں الاٹ ہوا ہے؛ حالانکہ یہ بالکل ناجائز اور حرام ہے*
ان سب کی بنیاد یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں مال و متاع کی حرص اور مادیت اس قدر پیدا ہو گئی ہے کہ وہ ہر کام میں اور ہر قیمت پر زیادہ سے زیادہ پیسے حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے عبادتوں کے انجام دینے اور اس کے وسائل فراہم کرنے میں اجر و ثواب کے جذبہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا ہے *اور ایسے مقدس کاموں کو بھی خالصۃ" تجارتی مقصد کے تحت انجام دیتے ہیں، نیز لوگوں کے سامنے اپنی تصویر کچھ اس طرح کی پیش کرتے ہیں کہ گویا وہ دین کے خدمت گذار اور اپنے مسلمان بھائیوں کے پکے بہی خواہ ہیں* اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے، ضرورت تو یہ تھی کہ ہم اپنی تجارت کو عبادت بنا لیتے، یعنی اس میں اللہ کی رضا کا جذبہ شامل رکھتے، کم نفع لیتے، لوگوں کو سہولت بہم پہنچاتے، *کچھ اجرت حاصل کرتے اور کچھ اجر کے امیدوار رہتے، نہ یہ کہ ہم عبادت کو تجارت کا رنگ دیدیں اور حصول اجر و ثواب کے مواقع کو کسب معاد کے بجائے خالص کسب معاش کا ذریعہ بنا لیں* و باللہ التوفیق -

Comments

Popular posts from this blog

ماہ رمضان ؛ فضائل و مسائل