رمضان سے پہلے روزوں کے یہ احکام جان لیں
#روزے_كے_احكام
💠 رمضان كے روزے، ہر اس مسلمان عاقل بالغ مرد وعورت پر فرض ہیں، جو روزے كی طاقت ركھتا ہے۔
بچوں كو عقل تمیز كی عمر كو پہنچنے كے بعد عادت ڈلوانے كے لئے روزے ركھوانے چاہئیں اگر وہ اس كی طاقت ركھتے ہوں۔
♦ روزے كا وقت: صبح صادق
(جسے پو پھٹنا كہتے ہیں) سے لے كر سورج غروب ہونے تک۔
♦ روزے كے لئے نیت ضروری ہے، اور نیت فجر كا وقت
(صبح صادق) ہونے سے پہلے كر لینی چاہئے۔
( نیت دل كے ارادے كا نام ہے، اس لئے عموما رات كو سوتے وقت ہی آدمی كی نیت (یعنی ارادہ) ہوتا ہے كہ وہ كل روزے سے رہے گا۔)
♦ وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:
🔹 جماع یا ہمبستری: رمضان كے روزے كو جماع كے ذریعے توڑنے پر قضاء اور كفارہ دونوں واجب ہوتے ہیں، اور كفارہ یہ ہے كہ ایک غلام آزاد كرے، اگر غلام نہ ملے (اور اس زمانے میں نہیں مل سكتا) تو دو مہینے كے لگاتار روزے ركھے، اگر اس كی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسكینوں كو كھانا كھلائے۔
(یاد رہے كہ یہ ترتیب كے ساتھ واجب ہیں، جو دو مہینےلگاتار روزے ركھنے كی طاقت ركھتا ہو اس كے لئے ساٹھ مسكینوں كو كھانا كھلانا كافی نہیں ہوگا۔)
🔸 جماع كے بغیر بیوی سے بوس كنار وغیرہ كی وجہ سےانزال ہونے یا ہاتھ سے منی نكالنےسے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیكن كفارہ واجب نہیں ہوتا، صرف قضا واجب ہوتی ہے۔
البتہ احتلام (نیند كی حالت میں انزال) سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طرح سوچنے كی وجہ سے انزال ہو تو روزہ نہیں ٹوٹتا، اگرچہ روزہ كی حالت میں اس بارے میں سوچنا بھی جائز نہیں ہے۔
🔹 كھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ لیكن اگر بھول كر كچھ كھا پی لیا، يا اڑ كر كچھ حلق میں چلا گیا، یا وضو كرتے وقت ناک میں پانی چڑھایا تو غلطی سے حلق تک پہنچ گیا تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔
🔸 جان بوجھ كر قے كرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اگر بلا قصد قے آئے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔
🔹 اگر كسی نے سحری كا وقت ختم ہونے
(فجر كا وقت ہوجانے ) كے بعد كھایا، خواہ وہ یہ سمجھ رہا ہو كہ ابھی رات ہی ہے، مگر بعد میں معلوم ہو كہ صبح صادق ہوچكی تھی، تو روزے كو پورا كرے لیكن اس پر روزے كی قضا واجب ہوگی۔
♦ جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا:
(كچھ چیزوں كا ذكر اوپر آیا: احتلام، بھول كر كھنانا پینا اور بلا اراہ قے آنا)
🔸 اسی طرح نكسیر پھوٹنے، یا زخم سے خون بہنے، یا ٹیسٹ كے لئے خون دینے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
🔹 بوقت ضرورت انجكشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، الا یہ كہ انجكشن غذائیت یا طاقت وغیرہ كے لئے ہو۔
🔸 كسی پر رات میں غسل واجب ہوا، یا عورت حیض یا نفاس سے پاک ہوئی، اور فجر كی اذان ہونے تک غسل نہیں كیا، تو اس كا روزہ ہوجائے گا۔ فجر كی اذان كے بعد غسل كر سكتا ہے۔
♦ روزہ كب چھوڑ سكتے ہیں؟
🔦 بلا عذر روزہ چھوڑنا حرام اور سنگین گناہ ہے۔
🔹 حیض اور نفاس (ولادت كے بعد آنے والے خون) كے ایام میں روزہ نہیں ہوتا۔ قضاء واجب ہے۔
🔸 مسافر اور مریض روزہ چھوڑ سكتے ہیں، بعد میں قضاء كریں گے۔
🔹 وہ عورت جو حمل سے ہو یا دودھ پلا رہی ہو، اس كے لئے اس صورت میں روزہ چھوڑنا جائز ہے جبكہ اس كو اپنے یا بچے كے سلسلے میں خوف ہو، بعد میں قضاء كرنی ہوگی۔
🔸 بڑھاپے یا دائمی مرض كے سبب روزہ نہ ركھ سكنے والے پر ہر دن كے بدلے ایک مسكین كو كھانا كھلانا بطور فدیہ واجب ہے، قضاء نہیں ہے۔
🔹 اگر كسی نے كسی عذر كی وجہ سے روزہ نہیں ركھا تھا، اور دن كے دوران اس كا عذر زائل ہوگیا تو بقیہ دن وہ روزے سے رہے گا، مگر قضاء پھر بھی كرنی ہوگی۔
💐اللہ تعالٰی ہم کو عمل کرنے کی توفیق دے آمین.
🌹رمضان المبارک 1439ھــ🌹
Comments
Post a Comment