اعتکاف…فضلیت اور چند اہم مسائل

*اعتکاف…فضلیت اور چند اہم مسائل*

اللہ تعالیٰ کی رضاء کو حاصل کرنے کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کا مسنون عمل ہے۔
اس کے بہت زیادہ فضائل ہیں۔

*عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰى تَوَفَّاهُ اللّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهٖ•*

صحیح بخاری: باب الاعتكاف فی العشر الأواخر

*ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبئ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اعتکاف فرماتی رہیں۔*

*عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ۔۔۔ مَنِ اعْتَكَفَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ تَعَالٰى جَعَلَ اللهُ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ کُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ•*

المعجم الاوسط للطبرانی: حدیث نمبر 7326

*ترجمہ: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی رضا کیلیے ایک دن کا اعتکاف کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو آڑ بنا دیں گے، ایک خندق کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔*

فائدہ: سبحان اللہ!ایک دن کے اعتکاف کی یہ فضیلت ہے تو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اعتکاف کی کیا فضیلت ہو گی؟
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رمضان کی مبارک گھڑیوں میں اعتکاف کرتے ہیں اور مذکورہ فضیلت کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

*عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا  أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ ہُوَ یَعْكِفُ الذُّنُوبَ، وَيَجْرِيْ لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ کَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا•*

سنن ابن ماجۃ: باب فی ثواب الاعتكاف

*ترجمہ: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ ان کو خود کرتا رہا ہو۔*

فائدہ: اس حدیث میں اعتکاف کے فوائد میں سے دو بیان کیے گئے ہیں:

1) معتکف جتنے دن اعتکاف کرے گا اتنے دن گناہوں سے بچا رہے گا۔
2) جو نیکیاں وہ باہر کرتا تھا مثلاً مریض کی عیادت، جنازہ میں شرکت، غرباء کی امداد، علماء کی مجالس میں حاضری وغیرہ، اعتکاف کی حالت میں اگرچہ ان کاموں کو نہیں کر سکتا لیکن اس قسم کے اعمال کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔

ایک حدیث میں آتا ہے:

*مَنِ اعْتَکَفَ اِیْمَانًا وَ احْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ•*

کنز العمال: کتاب الصوم، الفصل السابع فی الاعتکاف و لیلۃ القدر

*ترجمہ: جس نے اللہ کی رضا کیلیے ایمان و اخلاص کے ساتھ اعتکاف کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔*

فائدہ: اس حدیث میں اعتکاف کرنے پر جن گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا ہے ان سے مراد گناہِ صغیرہ ہیں، کیونکہ گناہِ کبیرہ کی معافی کیلیے توبہ شرط ہے۔
اعتکاف کرنے والا جب مبارک ساعات میں خدا تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتا ہے، آہ وبکا کرتا ہے اور اپنے سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کرتے ہوئے آئندہ نہ کرنے کا عزم کرتا ہے تو یقینی بات ہے کہ اس کے کبیرہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں،
اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ مبارک میں گناہوں سے مراد کبیرہ بھی ہو سکتے ہیں جن کی معافی اعتکاف میں ہوتی ہے۔
لہٰذا معتکف کو چاہیے کہ توبہ و استغفار کا ضرور اہتمام کیا کرے۔

*عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَقُولُ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ•*

صحیح البخاری: باب تحری ليلۃ القدر في الوتر من العشر الأواخر

*ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کیا کرو۔*

فائدہ: اعتکاف سے مقصود لیلۃ القدر کو پانا ہے جس کی فضیلت ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔
نیز اس حدیث میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کیلیے آخری عشرہ کا اہتمام بتایا گیا ہے جو دیگر احادیث کی رو سے اس عشرہ کی طاق راتیں ہیں۔
لہٰذا بہتر تو یہی ہے کہ اس آخری عشرہ کی ساری راتوں میں بیداری کا اہتمام کرنا چاہیے ورنہ کم از کم طاق راتوں کو تو ضرور عبادت میں گزارنا چاہیے۔

*»چند ضروری مسائل:«*

ماہِ رمضان کے آ

خری عشرہ میں کیا جانے والا اعتکاف *”سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ“* ہے،
یعنی بڑے شہروں کےمحلے کی کسی ایک مسجد میں اور گاؤں دیہات کی پوری بستی کی کسی ایک مسجد میں کوئی ایک آدمی بھی اعتکاف کرےگا توسنت سب کی طرف سے ادا ہو جائے گی۔ اگر کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب گنہگار ہوں گے۔

*اس اعتکاف کے چند مسائل یہ ہیں:*

مسئلہ1: رمضان کے سنت اعتکاف کا وقت بیسواں روزہ پورا ہونے کے دن غروبِ آفتاب سےشروع ہوتاہےاورعید کا چاندنظر آنےتک رہتا ہے۔
معتکف کو چاہیے کہ وہ بیسویں دن غروبِ آفتاب سے پہلے اعتکاف والی جگہ پہنچ جائے۔

مسئلہ2: جس محلے یا بستی میں اعتکاف کیا گیا ہے، اس محلے اور بستی والوں کی طرف سے سنت ادا ہو جائے گی اگرچہ اعتکاف کرنے والا دوسرے محلے کا ہو۔

مسئلہ3: آخری عشرے کے چند دن کا اعتکاف، اعتکافِ نفل ہے، سنت نہیں۔

مسئلہ4: عورتوں کو مسجد کے بجائے اپنے گھر میں اعتکاف کرنا چاہیے۔

مسئلہ5: سنت اعتکاف کی دل میں اتنی نیت کافی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کیلیے رمضان کے آخری عشرے کا مسنون اعتکاف کرتا ہوں۔

مسئلہ6: کسی شخص کو اجرت دے کر اعتکاف بٹھانا جائز نہیں۔

مسئلہ7: مسجد میں ایک سے زائدلوگ اعتکاف کریں تو سب کو ثواب ملتا ہے۔

مسئلہ8: مسنون اعتکاف کی نیت بیس تاریخ کے غروبِ شمس سے پہلے کر لینی چاہیے، اگر کوئی شخص وقت پر مسجد میں داخل ہو گیا لیکن اس نے اعتکاف کی نیت نہیں کی اور سورج غروب ہو گیا تو پھر نیت کرنے سے اعتکاف سنت نہیں ہو گا۔

مسئلہ9: اعتکافِ مسنون کے صحیح ہونے کیلیے مندرجہ ذیل چیزیں ضروری ہیں:

1: مسلمان ہونا،
2: عاقل ہونا،
3: اعتکاف کی نیت کرنا،
4: مرد کا مسجد میں اعتکاف کرنا،
5: مرد اور عورت کا جنابت یعنی غسل واجب ہونے والی حالت سے پاک ہونا (یہ شرط اعتکاف کے جائز ہونے کیلیے ہے لہٰذا اگر کوئی شخص حالتِ جنابت میں اعتکاف شروع کر دےتو اعتکاف تو صحیح ہو جائے گا لیکن یہ شخص گناہگار ہو گا)،
6: عورت کا حیض ونفاس سے خالی ہونا
7: روزے سے ہونا ( اگر اعتکاف کے دوران کوئی ایک روزہ نہ رکھ سکے یا کسی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے تو مسنون اعتکاف بھی ٹوٹ جائےگا۔)،

10: جس شخص کے بدن سے بدبو آتی ہو یا ایسا مرض ہو جس کی وجہ سے لوگ تنگ ہوتے ہوں تو ایسا شخص اعتکاف میں نہ بیٹھے البتہ اگر بدبو تھوڑی ہو جو خوشبو وغیرہ سے دور ہوجائے اور لوگوں کو تکلیف نہ ہو، تو جائز ہے۔

*اعتکاف کی حالت میں جائز کام:*

کھانا پینا (بشرطیکہ مسجد کو گندا نہ کیاجائے)،
سونا،
ضرورت کی بات کرنا،
اپنا یا دوسرے کا نکاح یا کوئی اور عقد کرنا،
کپڑے بدلنا،
خوشبو لگانا،
تیل لگانا،
کنگھی کرنا(بشرطیکہ مسجد کی چٹائی اورقالین وغیرہ خراب نہ ہوں )،
مسجد میں کسی مریض کا معائنہ کرنا نسخہ لکھنا یا دوا بتا دینا لیکن یہ کام بغیر اجرت کے کرے تو جائز ہیں ورنہ مکروہ ہیں،
برتن وغیرہ دھونا،
ضروریاتِ زندگی کیلیے خرید و فروخت کرنا بشرطیکہ سودا مسجد میں نہ لایا جائے، کیونکہ مسجد کو باقاعدہ تجارت گاہ بنانا جائز نہیں۔
عورت کا اعتکاف کی حالت میں بچوں کو دودھ پلانا۔
معتکف کا اپنی نشست گاہ کے ارد گرد چادریں لگانا۔
معتکف کامسجد میں اپنی جگہ بدلنا۔
بقدرِ ضرورت بستر،صابن، کھانے پینے کے برتن، ہاتھ دھونے کے برتن اور مطالعہ کیلیے دینی کتب مسجد میں رکھنا۔

*ممنوعات و مکروہات:*

بلاضرورت باتیں کرنا، اعتکاف کی حالت میں فحش یا بےکار اور جھوٹے قصے کہانیوں یا اسلام کے خلاف مضامین پر مشتمل لٹریچر، تصویر دار اخبارات و رسائل یا اخبارات کی جھوٹی خبریں مسجد میں لانا، رکھنا، پڑھنا، سننا۔ 
ضرورت سے زیادہ سامان مسجد میں لا کر بکھیر دینا۔
مسجد کی بجلی،گیس اور پانی وغیرہ کا بےجا استعمال کرنا۔
مسجدمیں سگریٹ وحقہ پینا۔
اجرت کے ساتھ حجامت بنانا اور بنوانا، لیکن اگر کسی کو حجامت کی ضرورت ہے اور بغیر معاوضہ کے بنانے والا میسر نہ ہو تو ایسی صورت اختیار کی جا سکتی ہےکہ حجامت بنانے والا مسجد سے باہر رہے اور معتکف مسجد کے اندر۔

*حاجاتِ طبعیہ:*

پیشاب، پاخانہ اوراستنجے کی ضرورت کیلیے معتکف کو باہر نکلنا جائز ہے،
جن کے مسائل مندرجہ ذیل ہیں:

1. پیشاب، پاخانہ کیلیے قریب ترین جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے۔
2. اگر مسجد سے متصل بیت الخلاء بنا ہوا ہے اور اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تووہیں ضرورت پوری کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو دور جا سکتا ہے، چاہےکچھ دورجانا پڑے۔
3. اگر بیت الخلاء مشغول ہو تو انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ فارغ ہونے کے بعد ایک لمحہ بھی وہاں ٹھہرنا جائز نہیں۔
4. قضاء حاجت کیلیے جاتے وقت یا واپسی پر کسی سے مختصر بات چیت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس کیلیے ٹھہرنا نہ پڑے۔

*خواتین کا اعتکاف*

بعض لوگ  دینی معاملات میں مرد وعورت کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور مرد وعورت کو مساجد، عیدگاہوں اور اعتکاف میں اکٹھا کردیا۔
انگریز نے دنیاوی لبادہ اوڑھ کر مرد وعورت میں تفریق کو ختم کیا اور غیرمقلدی

ن نے دینی لبادہ اوڑھ کر مردو عورت کے درمیان تفریق کو ختم کردیا۔
حالانکہ مرد وعورت کے طریقۂ عبادت میں فرق کا ہونا عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے۔
عبادات دو طرح کی ہیں: 1:بدنیہ، 2:مالیہ

مرد وعورت کے چونکہ مال میں فرق نہیں یعنی نصابِ زکوۃ، شرائطِ زکوۃ وغیرہ میں، اس لیے عبادات مالیہ میں  بھی فرق نہیں ہے۔
اس کے برخلاف جب مرد وعورت کے جسم کی ساخت میں فرق ہے تو لامحالہ ان کی عبادات بدنیہ میں فرق ہو گا۔

چند مثالیں:
1: مرد رمضان کے پورے روزے رکھتا ہے جب کہ عورت مخصوص ایام میں روزے نہیں رکھتی۔
2: وجوبِ حج نصاب تو ایک  ہے لیکن مرد اکیلا جاسکتا ہے جب کہ عورت کے لیے محرم کا ہونا بھی شرط ہے۔
3: احرام کے کپڑوں میں فرق ہے۔
4: مرد تلبیہ اونچی آواز سے کہتا ہے جب کہ عورت آہستہ آواز سے کہتی ہے۔
5: طواف کے دوران مرد رمل یعنی اکڑ کر چلتا ہے جب کہ عورت میانہ رفتار سے چلتی ہے۔
6: مرد احرام کی چادر بازو کے نیچے سے نکالتا ہے جب کہ عورت کے لیے اس طرح کرنا جائز نہیں۔
7: دورانِ سعی مرد کو دوڑنا چاہیے جب کہ عورت کو نہیں دوڑنا چاہیے۔
8: مرد کے لیے حلق [سر منڈانا] افضل ہے جب کہ عورت کے لیے حلق جائز نہیں ہے۔
9: مرد وعورت کی شرعی حدود میں فرق ہے۔
10: مرد عورت کے کفن ودفن میں فرق ہے۔

یہ فروق بدن  کی ساخت اور پردے  کی وجہ سے ہیں۔
اعتکاف بھی چونکہ بدنی عبادت ہے اس لیے اس میں بھی فرق ہونا چاہیے اور یہ فرق قرآن وحدیث اور عملِ متوارث سے ثابت ہے۔ اس لیے فقہاء نے قرآن و سنت کی روشنی میں  مسئلہ لکھا ہے کہ مرد کے لیے اپنے محلے کی مسجد میں اعتکاف کرنا اور عورت کے لیے اپنے گھر کی مخصوص جگہ میں اعتکاف کرنا افضل ہے۔
قرآن کریم: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ

سورۃ البقرۃ :آیت نمبر 187

ترجمہ: اور تم مسجدوں میں اعتکاف کیا کرو۔

اس آیت کی تفسیر میں امام ابوبکر الجصاص م 370ھ فرماتے ہیں:

وأما شرط اللبث في المسجد فإنه للرجال خاصة دون النساء۔

احکام القرآن للجصاص تحت آیت مذکورہ

ترجمہ: مسجد میں ٹھہرنے کی شرط (اعتکاف کے لیے) صرف مردوں کے لیے ہے نہ کہ عورتوں کے لیے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےایک مرتبہ فرمایا کہ میں رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کروں گا۔  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی (کہ وہ بھی اعتکاف کریں گی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا مجھے بھی اجازت دلا دو، انہوں نے اجازت دلا دی۔ جب حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی (خدام کو خیمہ لگانے کا)حکم دے دیا۔ چنانچہ ان کا بھی خیمہ لگادیا گیا۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے تو بہت سارے خیموں کو دیکھ کر فرمانے لگے: یہ خیمے کیسے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ حضرت عائشہ،حضرت حفصہ اور حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن نے لگائے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا انہوں نے اس سے نیکی کا ارادہ کیا ہے؟اب میں اعتکاف نہیں کرتا۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف سے  باہرتشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر گزار چکے تو شوال کے مہینے میں دس دن اعتکاف کیا۔

صحیح بخاری: باب من أراد أن يعتكف ثم بدا لہ أن يخرج

اس حدیث مبارک سےصاف طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو مسجد میں اعتکاف نہیں کرنا چاہیے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے خیمے لگ جانے کے بعد اکھاڑنے کا حکم نہ دیتے۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں  احکام شریعت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔
آمین یا رب العالمین بجاہ سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم

*والسلام*
*محمد الیاس گھمن*
*وکیر ، قطر*

Comments

Popular posts from this blog

ماہ رمضان ؛ فضائل و مسائل